پشتونخوا کے نئے اضلاع ميں انتخابات اور عوامی نيشنل پارٹی کا بيانيہ تحرير: خان زمان کاکڑ

پشتونخوا کے نئے اضلاع ميں انتخابات اور عوامی نيشنل پارٹی کا بيانيہ

تحرير: خان زمان کاکڑ

ماضی ميں فاٹا کے نام سے جانے جانيوالے پشتون علاقوں ميں پہلی دفعہ صوبائی انتخابات ہونے جارہے ہيں. صوبہ پشتونخوا ميں انضمام کے بعد ان علاقوں ميں سياسی عمل کا باقاعده آغاز ہوچکا ہے.
گزشتہ ايک صدی ميں  افغانستان اور وسطی اشياء کے خلاف ايک ترويزاتی مورچے کے طور پر استعمال کی جانيوالی اس سرزمين ميں سب سے زياده استعماری اور رياستی مشنری کی توانائی وہاں پر سياسی عمل کی روک تهام پہ صرف ہوئی تهی. وہاں پہ قومی اسمبلی کيلئے غير سياسی اور غيرجماعتی بنيادوں پر انتخابات تو ہوتے تهے جس کے نتيجے ميں پاس ہونے والے لوگوں کی ايک كیٹیگری بنائی گئی تهی جو صرف حکمران حلقے کی ضروريات پوری کرنے کيلئے استعمال ہوتی تهی، اس سے کئی کام ليے جاتے تهے ليکن دو کام سب سے اہم تهے: ايک وه آزاد اميدواران اپنے حلقوں کے حوالے سے کسی قسم کی قانون سازی ميں حصہ نہيں لے سکتے تهے اور دوسرا ان کی نمائندگی کو بنياد بنا کر پشتونخوا اور باقی ملک سے فاٹا ميں رياست کے استحصالی کردار کے خلاف اٹهنے والی آوازوں کو اصولی اور اخلاقی طور پر بلاجواز قرار ديا جاتا تها. نيشنل عوامی پارٹی کے سربراه اور اس وقت کے اپوزيشن ليڈر خان عبدالولی خان نے وزيراعظم ذوالفقار علی بهٹو سے کہا تها کہ آپ کو جب بهی پارليمان ميں کسی اعتماد کے ووٹ کی ضرورت پڑتی ہے تو آپ فاٹا سے آئے ہوئے اميدوارن  کا سہارا ليتے ہيں ليکن ان لوگوں کا  اتنا بهی اختيار نہيں کہ وه اپنے اپنے علاقوں کے بارے ميں کوئی بات کرسکيں. يا تو ان لوگوں کو يہاں سے فارغ کرديں يا پهر ان کو قانون سازی کے عمل ميں حصہ لينے کا اختيار ديا جائے. بهٹو صاحب يہ کام کہاں کرسکتے تهے، اس لئے کہ فوجی ايسٹبلشمنٹ کو جلد ہی امريکی سرکار سے ايک بڑی ذمہ داری سونپنے والی تهی اور اس کو ايک بے اختيار اور بے زبان فاٹا ميں ہی پوری کی جاسکتی تهی. بهٹو صاحب کی بيٹی جب دوسری دفعہ اقتدار ميں آئيں تو افضل خان لالا کی پشتونخوا قومی پارٹی بهی ان کی حکومت کا حصہ بنی. افضل خان لالا کو سيفران کی وزارت ملی. وزرات کا حلف لينے کے بعد انہوں نے ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے فاٹا ميں اصلاحات کی ضرورت پہ زور ديا. اس پريس کانفرنس کے فوراً بعد افضل خان لالا کو محترمہ کی کال آئی کہ وه ان سےفوری طور پر مليں. وه جب محترمہ کے پاس تشريف لے گئے تو محترمہ نے بتايا کہ جرنيلوں کو آپ کی فاٹا ميں اصلاحات لانے والی بات پسند نہيں آئی ہے لہذا آپ کی پورٹفوليو کو تبديل کرنا اب ہماری مجبوری ہے.
۲۰۰۸ ميں جب پيپلز پارٹی اور عوامی نيشنل پارٹی کی حکومت بنی تو فاٹا کی تقدير بدلنے کا ايک اميد پيدا ہوگيا. اس لئے کہ اے اين پی اس حوالے سے بہت ہی سنجيده تهی ليکن سب سے بڑا چيلنج يہ تها کہ نائن اليون کے بعد فاٹا کو عملاً افغانستان کے خلاف ايک مورچے اور تزويراتی گہرائی کے اہم ترين علاقے کے طور پر استعمال کرنا شروع ہوا تها. فاٹا جس پر اے اين پی کو اسلام آباد کا کنٹرول قبول نہيں تها اس پر راولپنڈی کا خطرناک کنٹرول آگيا تها. وہاں پہ عملاً دہشت گردوں کی حکومت قائم ہوئی تهی اور اس حکومت کی لڑائی براه راست صوبہ پشتونخوا ميں اے اين پی کی  حکومت کے ساتھ شروع ہوئی تهی. يہاں پہ يہ بتانا بهی ضروری ہے کہ اسلام آباد نے ہميشہ "قوم پرست" پشتون کے خلاف ايک "قبائلی" پشتون کو انسٹرومينٹلائز کيا تها. جب راولپنڈی نے فاٹا کا کنٹرول سنبهالا تو ايک متشدد اور شدت پسند پشتون شناخت کو قومی سياست کے خلاف ابهارنا شروع کيا. سوچنے کی بات يہ ہے کہ جب فاٹا کو عسکريت کے سپرد کرديا جاتا تها تو عين اسی وقت اے اين پی پر دہشت گردوں کے شديد حملے جاری تهے. دوسرے الفاظ ميں، فاٹا کے سماجی اور ثقافتی مرکزے اور عوامی نيشنل پارٹی کے تنظيمی اور نظرياتی مرکزے پر بيک وقت ايک ہی قوت کی طرف سے حملے ہورہے تهے اور ساتھ ميں پاکستان کے مين سٹريم ميڈيا اور ميٹروپوليٹن حلقوں ميں فاٹا کی شناخت کو  تشدد، قدامت پسندی اور پسماندگی اور عوامی نيشنل پارٹی کی شناخت کو کرپشن، اقربا پروری اور نااہلی کے ساتھ جوڑنے کا کام  بهی جاری تها. پشتون نيشنلزم کو فاٹا ميں تاريخی طور پر جس طرح بلاک کيے رکها گيا تها، نائن اليون کے بعد يہ اور بهی خطرناک شکل اختيار کرگيا.  سماج کے اوپر کنٹرول حاصل کرنے کی عسکری رياستی پاليسی نے فاٹا کو قوم پرستوں کيلئے مکمل طور پر ايک نوگو ايريا بنا ديا. دہشت گردی، عسکريت اور تزويراتی گہرائی کے خلاف جدوجہد کرنے والے پشتون قوم پرست خصوصاً باچاخان اور ولی خان کی پارٹی فاٹا ميں جاری خطرناک رياستی کاروائيوں سے کبهی لاتعلق نہيں ره سکتی تهی. يہ بهی بتاؤں کہ يہ واحد پارٹی تهی جس نے فاٹا ميں رياست کے اس نئے کهيل کو شروع ہوتے ہی ايکسپوز کرنا شروع کرديا اور اس کے خلاف پشتونوں کو متحد ہونے کی ضرورت پر زور ديا ليکن رياست نے فاٹا اور قوم پرستوں کے درميان جو فاصلہ پيدا کيا تها اس کی وجہ سے وہاں تک  قوم پرستوں کی آواز پہنچ نہيں سکی. فاٹا ميں دہشت گردوں کی حکومت نے قوم پرستوں کے داخلے پر مکمل پابندی لگائی تهی. اے اين پی رياست سے مسلسل پوچھ رہی تهی کہ اس حکومت کو کب تک وہاں نافذالعمل رکهنے کی پالیسی بنائی گئی ہے؟ ڈيپ سٹيٹ کس کو کيا جواب دينے کا مجاز تها! جواب نہ ديتا، اوپر سے يہ پروپيگنڈا کرنے ميں کامياب ہوگيا کہ مشکل کی گهڑی ميں اے اين پی نے فاٹا کی عوام سے اظہار يکجہتی کی کوئی ايک کوشش بهی نہيں کی. اے اين پی ٹی وی سکرين پہ موجود ہی نہيں تهی کس کو کيا جواب ديتی، کس کے سامنے اپنی صفائی کرتی. دہشت گردوں کے سامنے امريکی ايجنٹ، ايسٹبلشمنٹ کے سامنے غدارِ پاکستان اور فاٹا کے عوام کے سامنے اپنے مفادات کی تحفظ ميں مصروف اے اين پی اپنے ليڈروں اور کارکنوں کی لاشيں اٹها اٹها کر بهی نہيں تهک گئی تهی اور کچھ اہم کام کرنے کا ايجنڈا آگے لے جارہی تهی جس ميں ايک اٹهارويں آئينی ترميم پاس کرنے کا کام تها ليکن بڑی محنت کے باوجود بهی اس ترميم  ميں فاٹا کے حوالے سے اصلاحات لانے کے نکتے کے خلاف فوجی ايسٹبلشمنٹ ايک   ديوار کے طور پر کهڑی  ہوگئی. فاٹا ميں فوجی اقتصاد کی جو سلطنت جرنيلوں کی بننی جارہی تهی اس کو آئينی اصلاحات کی زد ميں لانا وه کبهی برداشت نہيں کرسکتے تهے. اے اين پی کا واضح مطالبہ تها کہ دنيا جہاں کے دہشت گردوں کو جو فاٹا ميں جمع کيا گيا ہے اور جس طرح سے وہاں پہ ان کے ذريعے مقامی آبادی کو تباه و برباد کيا جارہا ہے اس کو جس طريقے سے بهی ہو ختم کيا جائے ليکن ساتھ ميں يہ مطالبہ بهی کيا جارہا تها کہ فاٹا کو صوبہ پشتونخوا ميں ضم کيا جائے، وہاں پہ آئينی اصلاحات لائے جائے، دہشت گردوں کے خلاف  اکراس دی بورڈ کاروائی کی جائے، خصوصاً پنجاب ميں دہشت گردوں کی اقتصادی اور نظرياتی نرسرياں جب تک ختم نہيں کی جائيگی اور اچهے اور برے طالبان کا فرق ختم نہيں کيا جائے گا تب تک امن نہيں آسکتا. پاکستان کی افغان پاليسی ميں تبديلی لانے اور افغانستان کو ايک خودمختار رياست تسليم کرنے کے بغير يہ مسئلہ ختم نہيں ہوسکتا. 
جيسا بتايا گيا کہ اے اين پی ان ساری رکاوٹوں کے باوجود باقی پارٹيوں ميں اتفاق رائے اور گورنر خيبرپختونونخوا کی مدد سے ۲۰۱۱ ميں پوليٹکل پارٹيز ايکٹ کو  فاٹا تک بڑهانے ميں کامياب ہوگئی. اے اين پی نے اس وقت بهی کہا تها کہ فاٹا ميں سياسی سرگرميوں کی آزادی سے شارٹ ٹرم  ميں دائيں بازو اور فوج پسند جماعتوں کو فائده پہنچے گا اس لئے کہ وہاں پہ براه راست طالبان اور فوج کی عملداری ہے ليکن لانگ ٹرم ميں وہاں کی عوام جو تاريخی اور رياستی ظلم و استبداد کا بدترين شکار بن چکی ہے وه اپنی حقيقی جماعتوں کا ساتھ دے گی اور ان کی ايک نئی سياسی زندگی شروع ہوجائيگی.
پشتونخوا ميں فاٹا کے انضمام پہ عوامی نيشنل پارٹی کی ايک مستقل پوزيشن رہی تهی. فوج نے فاٹا ميں جو ظلم ڈهايا تها اور جس کی وجہ سے وہاں کی عوام ايک بيگانگی ميں چلی گئی تهی، اس کے پیشِ نظر انضمام کی تحريک کے سامنے ايسٹبلشمنٹ ميں ايک کنفيوژن کی صورتحال پيدا ہوگئی. وہاں سے رياستی ظلم کے خلاف موثر آوازيں اٹهنا شروع ہوگئيں، جس کے مدنظر، انہوں نے انضمام کے سوال کو سرسری طور پر حل  کرنے پہ رضامندی دکهائی ليکن سياسی جماعتوں کی دور انديشی اور عوام کی بيداری وه سوال گہرائی ميں لے گئی. فاٹا کو پشتونخوا ميں ضم کرنے اور ايف سی ار کو ختم کرنے کی آئینی ترميم پاس ہوگئی ليکن اس پر عملدرآمد کوتاخير کاشکار بنانے کيلئے آئينی، انتظامی اور عسکری روکاوٹيں پهر بهی کهڑی کی گئيں. حلقہ بندياں  کچھ اس طريقے سے کی گئيں کہ عوام کی نمائندگی کم سے کم ره جائے. اے اين پی نے اس کے خلاف بهی آواز اٹهائی. اے اين پی نے ايف سی آر کی جگہ رواج ايکٹ لاگو کرنے کے خلاف بهی آواز اٹهائی. وہاں پہ ريگولر لاء کے نفاذ کا پرزور مطالبہ کيا. دفعہ ۱۴۴ کے ذريعے سياسی سرگرميوں کو کنٹرول کرنے کی پاليسی کو اے اين پی نے عملاً چيلنج کرنا شروع کرديا. وزيرستان ميں کرفيو لگانا ايک نارم بن چکا تها. اے اين پی نے اس نارم کو ماننے سے انکار کيا. اے اين پی کے سردار حسين بابک نے صوبائی اسمبلی کے فلور پہ بتايا کہ وزيرستان ميں اب بهی گُڈ طالبان  آزادانہ طور پر  سرکار کی سرپرستی ميں گهوم رہے ہيں. انہوں نے بتايا کہ ہم اس حوالے سے ساری دنيا کو بتائينگے اور رياست کے اس کردار پرتنقيد کرتے  رہينگے. ۲۰۱۳ کے اليکشن ميں وزيرستان ميں صرف عوامی نيشنل پارٹی کو طالبان کی طرف سے دهمکی ملی تهی کہ کئيں بهی سرخ جهنڈا لہرانے کی اجازت نہيں ہوگی. طالبان وہاں پر اے اين پی کے کئی اہم راہنماؤں کو شہيد کرچکے تهے.
اب جب وہاں پہ تاريخ ميں پہلی دفعہ صوبائی انتخابات ہونے جارہے ہيں تو سب سے پہلے جس پارٹی کو سرکار کی طرف سے سيکوريٹی کی دهمکياں مليں،  جس پارٹی کے دفاتر پہ سرکار کی طرف سے چهاپے  پڑے، جس پارٹی کے بينرز کو ہٹايا گيا اور جس پارٹی کے کارکنوں پہ مقدمے بنائے گئے تو وه عوامی نيشنل پارٹی ہی تهی ليکن جو پارٹی طالبان جيسی قوت سياست سے نکال نہيں سکے اس کو ايسے اوچهے ہتکنڈوں سے کيسے نئے ضم شده اضلاع سے دور رکها جاسکتا تها. عوامی نيشنل پارٹی نے تمام اضلاع ميں اپنے اميدوار کهڑے کئے ہيں اور ان کيلئے بهرپور کمپائن کو جاری رکها ہے. تمام حلقوں کيلئے اے اين پی نے پورے صوبے سے خصوصی کميٹياں تشکيل دی ہيں جو وہاں جاکر پارٹی کا منشور، پيغام اور بيانيہ لوگوں تک پہنچا رہی ہيں. اے اين پی کے انتخابی بيانيے ميں کئی اہم نکتے ہيں. چند نکات کا ذکر کرنا ضروری سمجهتا ہوں:

۱. آئينی اختيارات:
نئے ضم شده اضلاع کے وہی اختيارات ہونگے جو باقی پشتونخوا کے لوگوں کے ہيں ليکن پشتونخوا کے اختيارات ہر لحاظ سے پنجاب کے برابر ہونگے. ايسے پاکستان کو کبهی تسليم نہيں کيا جائيگا جس کا مطلب پنجاب ہوگا. پشتون پاکستان ميں ايک غلام کے طور پر رہنے کيلئے ہرگز تيار نہيں. سابقہ قبائلی علاقوں کو مزيد اسلام آباد يا راولپنڈی کے رحم و کرم پہ نہيں چهوڑا جائيگا، انضمام کے بعد ان کے سارے معاملات پشاور کے ساتھ وابستہ ہوچکے ہيں، پشاور کے ساتھ تعلق ميں اختيارات کا استعمال کيا جائيگا.

۲.  معاشی ترقی، افغانستان کے ساتھ تجارت، آمد و رفت: پاکستانی رياست نے افغانستان کے ساتھ آمد و رفت اور تجارت کے راستوں کو اس وجہ سے بند کرکے رکها ہے کہ اس خطے ميں پشتونوں کی ترقی کا عمل محدود بنايا جاسکے جوکہ پشتونوں کا انحصار پنجاب پہ بڑهانے کی پاليسی کا حصہ ہے. رياست نہيں چاہتی کہ ڈيورينڈ لائن کی دونوں طرف کے افغان ايک دوسرے سے اپنے تاريخی، قومی  ، ثقافتی اور علمی تعلقات قائم رکھ سکيں. اے اين پی اس پاليسی کو پشتونوں کا معاشی قتل سمجهتی ہے، راستوں کو فوری طور پر کهولنے کا مطالبه کرتی ہے اور دونوں طرف کے افغانوں کی آزادانہ آمد و رفت کو بحال کرنے پہ زور ديتی ہے.
سابقہ قبائلی اضلاع ميں ترقياتی کاموں کو جن فوجی کمپنيوں کے حوالے کيا گيا ہے اے اين پی اس کی بهرپور مخالفت کرتی ہے. اے اين پی پشتونوں کے وسائل پر فوج  کا قبضہ مسترد کرتی ہے اور اس کے خلاف عملی جدوجہد کا عہد کرتی ہے.

۳. امن :
اے اين پی  پشتون وطن بالخصوص سابقہ قبائلی علاقوں ميں امن قائم کرنا اپنی پہلی سياسی ترجيح سمجهتی ہے اور رياستِ پاکستان کو پشتونوں کی تمام تر بربادی و تباہی کا ذمہ دار سمجهتی ہے.  رياست کے پالے ہوئے دہشت گردوں کے سامنے اے اين پی ڈٹ کے کهڑی رہے گی اور اپنی سرزمين پہ اپنا  حقِ ملکيت ثابت کرنے کيلئے ہر حد تک جائيگی.

۴. نو ٹو ايف سی آر :
پی اے کے اختيارات ڈی سی کو منتقل کرنا ايف سی آر کا خاتمہ نہيں. ا ے اين پی نئے اضلاع ميں صرف اور صرف ايک قانون کو مانتا ہے اور ملک کا ريگولر قانون ہے. کسی سٹيٹ آف ايمرجنسی کو تسليم نہيں کيا جائيگا.

۵. خواتين کی نمائندگی:
اے اين پی ايک سيکولر اور ترقی پسند جماعت ہے. يہ کسی صنفی امتياز پہ يقين نہيں رکهتی. اے اين پی کی صفوں اور سلسلہ ِ مراتب ميں خواتين کسی بهی پوزيشن پہ آسکتی ہيں. اپنی اس سوچ کے مطابق اے اين پی نے ضلع خيبر کے ايک حلقے ميں ايک خاتون ناہيد افريدی کو ٹکٹ ديا ہے، وه  ديگر خواتين کے ساتھ اپنے انتخابی کمپائن ميں اس معاشرے کا ايک نيا رخ دنيا کے سامنے لاچکی ہے جس معاشرے کو  استعماری اور رياستی متون  اور ميڈيا ميں پدرسری کی ايک بدترين علامت کے طور پر پيش کيا گيا ہے.

۶. مہنگائی:
پاکستان کی موجوده حکومت نے عوام پہ مہنگائی کے جو بم برسانا شروع کيے ہيں، اے اين پی سمجهتی ہے کہ اس حکومت سے ريت کی بوريوں کا کام ليا جارہا ہے، پاکستان کی فوج گزشتہ تيس سالوں سے امريکا  سے دہشت گردی اور پهر دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پہ جو اربوں ڈالر وصول کرتی تهی وه ڈالرز اب رک گئے ہيں، جرنيل بهوکے ہوگئے ہيں، وه اب سانپ کی طرح اپنے بچوں يعنی عوام کو کها رہے ہيں، يہ مہنگائی فوجيوں کی بهوک مٹانے کيلئے لائی گئی ہے، اے اين پی مزاحمت کرے گی.

۷. عوام کی نمائندگی، جمہوريت:
اے اين پی موجوده سليکٹڈ حکومت کو تسليم نہيں کرتی اور سليکٹرز کو متنبہہ کرتی ہے کہ عوام کے حقِ نمائندگی پر ڈاکہ ڈالنے اور سياست ميں مداخلت کرنے کی پاليسی کے بڑے خطرناک نتائج برآمد هونگے. عوام کی حقيقی مينڈيٹ کو تسليم کيا جائے، ورنہ  گلی کوچوں ميں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا. اے اين پی ايسے پاکستان کو ہرگز نہيں مانتی جس ميں پشتونوں کا وجود اور اختيار نہيں مانا جاتا.

۸. قومی وحدت:
اے اين پی فاٹا اور خيبر پختونخوا کے انضمام کو پشتونوں کی جغرافيائی اور قومی وحدت کی طرف ايک تاريخی اور اہم قدم سمجهتی ہے ليکن ساتھ ميں اس پروسس کو جمہوری اور آئينی طريقے سے پايہ تکميل تک پہنچانے پہ بهی زور ديتی ہے. اے اين پی اپنی قومی شناخت پہ ايک ذرا کمپرومائز کرنے کو تيا رنہيں، سارے پشتون افغان ہيں، لر و بر ، يو افغان اے اين پی کا  پرينسيپلڈ سلوگن ہے، پشاور ميں پشتونوں کے تاريخی دشمن رنجيت سنگھ کے مجسمے لگا کر پنجابی ايمپريلزم کا تاثر نہيں دلايا جائے، ورنہ اے اين پی اس تاثر کو ذائل کرنے کی سياست جانتی ہے.

۹. دہشت گردی، سيکوريٹی، دهمکياں: 
پشتونوں کی خودمختاری کی سياست کو مزيد دہشت گردی اور سيکوريٹی کی دهمکيوں سے نہيں دبايا جاسکتا. اے اين پی نے پورے دس سالوں ميں ان خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کيا ہے اور اپنی قوم کے ساتھ کهڑا رہنے کی ايک زبردست صلاحيت حاصل کرچکی ہے. سيکوريٹی دينا رياست کی ذمہ داری ہے. موت کا ايک دن مقرر ہے. آواز اٹهانا اور سچ بات کہنا اے اين پی کی روايت ہے. اے اين پی اپنی روايت برقرار رکهے گی. اے اين پی کو فرسوده حربوں سے نہيں دبايا جاسکتا.

Comments